!!حقوقِ نسواں اور اِسلامی بندِشیں

جنید جمشید نے عورتوں کے حوالے سے ایسا کیا کہا جسکی بنا پر عام مسلمان اتنا غصہ کر رہے ہیں . جنید جمشید نے وہی کہا جو اسلام میں ہے .  اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: مرد عورتوں پر حاكم ہيں اس وجہ سے كہ اللہ تعالى نے ايك كو دوسرے پر فضيلت دى ہے، اور اس وجہ سے كہ مردوں نے اپنے مال خرچ كيے ہيں. النساء ( 34 ). اسی نص سے علمائے اسلام یہ ثابت کرتے ہیں كہ مرد عورتوں سے افضل ہے، اور مرد عورت سے بہتر ہے، اسى ليے نبوت مرد كے ساتھ خاص ہے، اور اسى طرح حكمرانى بھى، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: ” وہ قوم ہرگز كبھى كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے امور كا ذمہ دار عورت كو بنا ليا ” اسے امام بخارى رحمہ اللہ نے عبد الرحمن بن ابى بكرۃ رضى اللہ تعالى سے بيان كيا وہ اپنے والد ابى بكرۃ رضى اللہ تعالى سے بيان كرتے ہيں، اور اسى طرح شریعہ اسلامی میں قضاء وغيرہ كا منصب بھى مرد كے ساتھ خاص ہے . اسلام میں عورت کا مقام چونکہ گھر کے اندر ہے اور اسکی پیدائش کا مقصد اپنے خاوند اور بچوں کی نگہداشت ہے اس لیے عورت امور دنیا سے لا تعلق رہتی ہے . چار دیواری میں زندگی گزرنے کے باعث چونکہ اسکی تخلیقی صلاحیتیں پنپ نہیں پاتیں اور وہ ذہنی طور پر بھی غبی ہو جاتی ہے اسی لیے قرآن مجيد نے مرد كى گواہى دو عورتوں كے برابر قرار دى ہے. فرمان بارى تعالى ہے: اور تم اپنے مردوں ميں سے دو مرد گواہ بنا لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ايك مرد اور دو عورتيں جنہيں تمہيں گواہ بنانا پسند كرتے ہو، اس ليے كہ اگر ايك عورت بھول جائے تو دوسرى اس كو ياد دلا دے . البقرۃ ( 282 ). ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں: ” دو عورتيں ايك مرد كے قائم مقام اس ليے بنائى گئى ہيں كہ عورت كى عقل ناقص ہے جيسا كہ صحيح مسلم ميں وارد ہے… ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ” اے عورتوں كى جماعت صدقہ كيا كرو، اور استغفار كثرت سے كرتى رہا كرو، كيونكہ ميں نے ديكھا ہے كہ تمہارى كثرت آگ ميں ہے. ايک عورت نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہميں كيا ہے كہ زيادہ آگ ميں ہيں ؟ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ” تم لعن طعن بہت كثرت سے كرتى ہو، اور خاوند كى ناشكر بہت كرتى ہو، ميں نے تم سے ناقص دين اور ناقص عقل والياں نہيں ديكھى جو عقلمند شخص پر غالب آ جاتى ہوں ” وہ عورت كہنے لگى: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم عقل اور دين ميں نقصان كس طرح ہے ؟ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ” عورت كى عقصل ميں نقص يہ ہے كہ دو عورتوں كى گواہى ايك مرد كے برابر ہے، يہ اس كى عقل كا نقصان ہے، اور كئى راتيں وہ نماز اور رمضان كے روزوں كى ادائيگى نہيں كرتى جو كہ اس كے دين كا نقصان ہے ” ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 1 / 336 ). عورت مرد كے مقابلہ ميں نصف كى وارث ہوتى ہے: فرمان بارى تعالى ہے: اللہ تعالى تمہيں تمہارى اولاد كے متعلق وصيت كرتا ہے كہ لڑكے كو دو لڑكيوں كے برابر ملے گا . النساء ( 11 ). اسی طرح اسلامی شریعہ میں مردوں کو بہت سے ایسے اختصاصی حقوق حاصل ہیں جو عورت کو حاصل نہیں . مرد چار عورتوں سے شادى كر سكتا ہے، ليكن عورت ايسا نہيں كر سكتى وہ صرف ایک ہى خاوند ركھ سكتى ہے. مرد لاتعداد لونڈیوں / کنیزوں سے جنسی تعلق رکھ سکتا ہے جبکہ عورت اپنے غلاموں سے جنسی تعلق نہیں رکھ سکتی . مرد كو طلاق دينے كا حق حاصل ہے ليكن عورت طلاق نہيں دے سکتی وہ خلع دائر کر سکتی ہے اور رشتہ اس صورت میں منقطع ہو سکتا ہے جب مرد اس خلع کو قبول کرے .رد كتابى عورت سے شادى كر سكتا ہے، ليكن مسلمان عورت صرف مسلمان شخص سے ہى شادى كر سكتى ہے.مرد بيوى يا كسى محرم كے بغير سفر كر سكتا ہے، ليكن عورت محرم كے بغير سفر نہيں كر سكتى. اسلام میں عورت پر خاوند کی خدمت واجب ہے. امام جعفر صادق فرماتے ہیں: “ایک عورت پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور عرض کی :عورت پر مرد کا کیا حق ہے؟ آنحضرت(ص) نے فرمایا: مرد کی جنسی خواہشات پوری کرے، حتی کہ اگر عورت اونٹ پر بهی سوار ہو”
امام باقر نے بهی پیغمبر اسلام (ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت{ص} نے عورتوں سے فرمایا: “اپنے مردوں کو مباشرت سے روکنے کے لئے اپنی نمازوں کو طولانی نہ کریں” ایک دوسری روایت میں پغمبر گرامی (ص) عورتوں کے اس عمل اور اس کے نتائج کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “جو عورت اپنے شوہر کو بستر خواب میں معطل کرے اور مباشرت کرنے پر راضی نہ ہو، یہاں تک کہ مرد کو نیند آجائے توجب تک مرد نیند کی حالت میں ہوتا ہے، ملائکہ اس عورت پر لعنت بهیجتے ہیں- اسلام میں خواتین کا کیا مقام ہے اسکو ایک بہت بڑے مسلم علم ، امام غزالی نے قران و حدیث کی مدد سے بیان فرمایا ہے ، اس کا خلاصہ یوں کیا جا سکتا ہے ، ‘عورت کو الله رب العزت نے گھر کی زینت، امورِ خانہ داری کی اصلاح وخوش اسلوبی، والدین اور شوہر کی خدمت ، اولاد کی صحیح پرورش اور دینی تربیت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی اس کی پیدائش کا اصل مقصد ہے۔’ مگر کیا اسلام وہ واحد مذہب ہے جس میں عورت کی حیثیت ثانوی ہے ؟ قدیم اشتمالی سماج کے بعد دنیا کی بہت سی اقوام دیگر معاشی رشتوں میں پیوست ہوئیں ہیں غلام داری ، جاگیرداری وغیرہ . یہاں یونان کی مثال لیتے ہیں . یونانی فکر و فلسفے کا ترجمان ارسطو ہے . ارسطو ، یونانی اشرافی فکر کا نمائندہ فلسفی تھا . جہاں وہ عورت کی تذلیل کرتا ہے وہاں وہ غلامی کے نظام کو بھی قدرتی قرار دیتا ہے . ایک جگہ لکھتا ہے ،

But is there any one thus intended by nature to be a slave, and for whom such a condition is expedient and right, or rather is not all slavery a violation of nature
There is no difficulty in answering this question, on grounds both of reason and of fact. For that some should rule and others be ruled is a thing not only necessary, but expedient; from the hour of their birth, some are marked out for subjection, others for rule.

یونانی سماج ، قدیم اشتمالی مساوات سے نکل کر زراعتی غلام داری نظام میں تبدیل ہو رہا تھا ، اس عمل میں یونانی فکر کس طرح تبدیل ہوئی ، اسکا اندازہ ہومر کی دوسری نظم ‘ اوڈیسی ‘ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے جس میں لڑکا ‘وحشی’ قبائلیوں کی معاشرت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کے وحشیوں میں غلام ، عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں اور ساتھ ہی اپنی ماں کو کہتا ہے کے وہ گھر جائے اور اسکے لیے کھانے کا انتظام کرے . بحث مباحثہ مرد کا کام ہے اور عورت کے ذمے گھریلو کام کاج .. اتھیینی قانون دان سولن نے جو قوانین خواتین کے لیے بنائے ، وہ ان قوانین سے مختلف نہیں ہیں جو امام غزالی وغیرہ عورت کے حوالے سے بیان کرتے ہیں .پھر ایسا بھی نہیں کے یہ عورت بیزاری محض قانون اور علماء تک محدود ہو .صوفیاء اور راہبوں نے بھی عورت کو فساد اور فتنہ قرار دیا . حضرت نے کشف المحجوب اور کشف الاسرار میں عورتوں سے خدا کی پناہ طلب کی ہے ۔اور ان کی ذات کو فتنہ وفساد کی مخزن قراردیا ہے. آخری تناظر میں یہ قوانین اور اقدار ایک زرعی غلام داری سماج کے قانون تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ مٹتے چلے جا رہے ہیں. خود یورپ میں خواتین و مرد کی برابری کی تحریکیں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کامیاب ہوئی ہیں . مائیکرو ٹیکنالوجی کا سماج ، جہاں مرد و عورت محنت کی یکساں مقدار کے ساتھ پیداوار کے عمل میں شریک ہو سکیں ، صرف وہاں ہی مرد و عورت کی برابری کی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے . ایک ایسا سماج جو پسماندہ ہو ، وہاں یہ مساوات ممکن نہیں … وہاں عوام کو شعوری سطح اس قسم کی دلیل کے اگے مات کھا جاتی ہے ،  ‘عورت کو الله رب العزت نے گھر کی زینت، امورِ خانہ داری کی اصلاح وخوش اسلوبی، والدین اور شوہر کی خدمت ، اولاد کی صحیح پرورش اور دینی تربیت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی اس کی پیدائش کا اصل مقصد ہے۔’ ایک ایسا سماج جہاں بیلوں سے ہل جوتا جائے اور محنت ہاتھوں کے پٹھوں سے ہو ، وہاں یہ دلیل کارگر ہے ،’مرد کو چونکہ الله نے فطری طور پر مضبوط اور طاقتور بنایا ہے اس لیے یہ عقل کا تقاضا ہے کے وہ نان نفقہ کی ذمہ داری اٹھائے . عورت چونکہ مشقت اور نان نفقے کے لیے محنت نہی کر سکتی اس لیے الله سبحان تعالیٰ نے اسکے ذمے امور خانہ داری رکھی ہے وہ اپنے شوہر اور بچوں کی خدمات کرے ‘ جنید جمشید بھی اسی پسماندہ پیداواری قووتوں والے سماج کی پیداوار ہے . ایک ایسا سماج جہاں بھاری بھرکم ، مشقت طلب کام ایک ماؤس کے ایک کلک پر ربوٹ انجام دیتے ہوں ، جہاں جدید ہارویسٹر ، تھریشر ایک بٹن دبانے پر کچھ گھنٹوں میں ساری فصل سمیٹ لیتے ہوں ، صرف وہاں ہی مرد و عورت یکساں طور پر پیداواری عمل میں شریک ہو سکتے ہیں اور وہاں ہی عورت و مرد قانونی اور معاشرتی حوالے سے برابر ہو سکتے ہیں …

فہد رضوان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s